غذر(این این این)غذر میں پرائیوٹ سکولوں کی فیسیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ۔سکول مالکان والدین کو بھاری فیسوں کے ذریعے لوٹنے لگے ۔مہنگائی اور بے روزگاری سے ستائے والدین نے بھاری فیسوں سے تنگ آکر اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں سے نکالنے کی تیاریاں کر لی ۔والدین نے حکومت سے پرائیوٹ سکولوں میں فیسوں کے حوالے سے پالیسی وضح کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔واضح رہے کہ غذر بھر میں معیاری تعلیم کے نام پر پرائیوٹ سکول مالکان نے غریب عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ۔بھاری فیسوں کی وجہ سے غریب والدین کا بچوں کو معیاری تعلیم دلوانے کا خواب چکنا چور ہو گیا ۔کئی والدین نے فیسوں سے تنگ آکر اپنے بچوں کو سکولوں سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ۔انگلش میڈیم اور جدید تعلیم کے نام پر غذر بھر میں اس وقت درجنوں افراد نے اپنا کاروبار کھول رکھا ہے ۔جہاں چار کمروں کا مکان خالی ملتا ہے وہاں نت نئے ناموں سے ایک ماڈل سکول کا قیام عمل میں لایا جاتاہے جہاں تو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق کوئی لیبارٹری موجود ہوتی ہے اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ٹیچر موجود ہوتے ہیں صرف ایف اور بی اے پاس افراد سے معیاری تعلیم دینے کے دعوے دار افراد غریب عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں اگر غلطی سے کسی سکول میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیچر دستیاب ہوتا ہے تو وہ صرف چند مہنوں کا مہمان ہوتو ہے کیونکہ اس کو اس کے توقعات کے مطابق تنخواہ نہیں مل رہی ہوتی یہی وجہ ہے کہ پرائیوٹ سکول مالکان کے لئے مال کمانے کا ایک بہترین ذریعہ بنا ہوا ہے ۔لہذاحکومت کو چاہئے کہ وہ پرائیوٹ سکولوں کے معیار اور فیسوں کے حوالے سے کوئی مظبوط پالیسی وضح کرے اور کوئی سکول مالک اس پالیسی کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاکر ایسے سکولوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر دے تاکہ یہ مقدس پیشہ بدنام ہونے سے بچ سکے۔
No comments:
Post a Comment