Thursday, 12 March 2015

غذر;متبادل لیکچرر نہ ہونے کی وجہ سے قوم کے معمار پریشان سخت پریشانی سے دوچار

غذر(این این این ) ایف جی گورنمنٹ بوئز ڈگری کالج ہاتون کے کمیسٹری کے لیکچرر کا جگہ تین ماہ سے خالی ،متبادل لیکچرر نہ ہونے کی وجہ سے قوم کے معمار پریشان سخت پریشانی سے دوچار ،دوسری طرف کالج ہذا کے دیگر لیکچرز بھی اپنے ڈیوٹیوں سے اکثر غائب رہتے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔کمیسٹری کے لیکچرر کو تبدیل ہوئے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن خالی جگہ تاحال پُر نہ ہوسکا۔اِدھر دور دراز سے آنے والے طلباء بھی گورنمنٹ ہاسٹل تیار نہ ہونے کہ وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ چار سال گزرنے کے باوجود بھی ہاسٹل کا کام تکمیل کو نہیں پہنچ گیا۔ٹھیکدار سے کوئی حساب لینے ولا نہیں جس پر وہ اپنے مرضی کا ملک بن گیا ہے۔ محکمہ ورکس اور کالج انتظامیہ اس مسلے کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں جس کی وجہ سے غذر کے دور دراز سے آنے والے طلباء کو پانچ کلومیٹر دور گاہکوچ یاپھرکسی دوسرے گاؤں میں رہائش پذیر ہونا پڑتا ہے۔عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کالج میں لیکچررز کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ہاسٹل کی بلڈنگ کو جلد تکمیل کو پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ طلباء کو درپیش مسائل حل ہوسکے۔

حیدر شاہ کو پی ایس ایف گلگت بلتستان کا صدر بنایا جائے

غذر(این این این)حیدر شاہ کو پی ایس ایف گلگت بلتستان کا صدر بنایا جائے ، موصوف پی ایس ایف گلگت بلتستان کا سینئر رہنما اور حقیقی جیالا ہے اور کئی سالوں سے غذر و گلگت بلتستان سطح پر پی ایس ایف میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ پی ایس ایف کو گلگت بلتستان میں فعال بنانے اور مضبوط کرنے میں حیدر شاہ کا بڑا ہاتھ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پی ایس ایف ضلع غذر کے صدر وقارعلی شاہ، رستم بیگ ،جمال الدین اور پیار علی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف گلگت بلتستان کے لیے حیدر علی ہی موضو امیدوار ہے جو کہ صحیح معنوں میں پی ایس ایف کو فعال کرے گا ۔پی ڈبلیوڈی کے ٹھیکیدار کو صدر بنایا گیا تھا بھر پورمخالفت کرئینگے ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے اعلیٰ قیادت سے حیدر علی شاہ کو صدر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف تعلیم یافتہ شخص ہے جو کہ طلباو طالبات کو بہتر جان سکتاہے۔

چودھرانی سرکار بالم تیرا تابعدار



تحریر: کامریڈ مقصد شاہ
مبارک ہو!گلگت بلتستان میں بھی چودھرانی سرکار قائم ہو ئی۔پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں سیلف رول ایمپاورمنٹ گورنمنٹ آرڈیننس نافذہوا۔اس کے تحت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے سے پہلے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے اپنے چودھری قمر الزمان کائرہ کو گلگت بلتستان کا گورنر مقرر کیا ۔با لکل اسی طرح ابھی موجودہ نواز لیگ کی وفاقی سرکار نے اپنے چودھری برجیس طاہر کو گورنر کے تخت پر بیٹھاہی دیا۔ خیر گورنر کوئی بھی بن جائے ۔ بات چودھرانی سرکار کے فیصلوں کی ہے۔ گلگت بلتستان جیسے سیاسی حقوق سے محروم خطے کی عوام پر وفاق پاکستان کی مرضی اور فیصلے ہی چل سکتے ہیں۔ یعنی چودھرانی سرکار کے قیام کا فیصلہ تو اٹل ہوسکتا ہے۔چودھرانی سرکار کے نام سے بھلا چیز ہی ایسی ہے جس کو بلا چون وچر ا سب کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ریاست پاکستان کے اپنے آئینی صوبوں کے اندر بھی چودھرانی سرکار کا اپنا قانون رائج ہے۔ سب سے بڑے صوبے پنجاب میں چودھریوں اور سرمایہ داروں کی بات کو کوئی بھی ٹال نہیں سکتا ۔صوبہ سندھ میں مخدوم باباسائیں اور وڈیروں کی بات کو ہی قانون کا درجہ حاصل ہے۔صوبہ خیبرپختونخوا میں قبائلی خان اور سرداروں کی بات کو تسلیم کرناپڑھتا ہے۔صوبہ بلوچستان میں نوابوں اورمیر وں کی شان میں قصیدے رقم ہوتے ہیں۔آزاد جموں وکشمیر میں بین الاقوامی ٹھیکہ داروں اور اقتدار پرست چودھریوں کی سرکار قائم ہوتی ہے۔ جوکہ پاک و ہند کے دونوں طرف قبول ہے۔گلگت بلتستان میں بھی مقامی شہزادوں اور راجوں کی کمی تو نہیں ،البتہ پنجاب کے چودھریوں کو وقتاََ فوقتاََ یہاں تشریف لانا لازمی ہوتا ہے۔اگر چہ درجہ بالا سب یعنی صاحب زادے،خانزادے ،نوابزادے،میر زادے ،راجے اور اقتدار زادے سبھی چودھرانی سرکار کے ستون ہوتے ہیں۔ ان میں سے آدھے دور آمریت میں پوزیشن سنبھالتے ہیں اور آدھے سے ذیادہ جمہوریت کے پروردہ ہوتے ہیں۔بہر حال یہ سب ملکر ہی چودھرانی سرکار کو تقویت بخشتے ہیں۔گلگت بلتستان میں آج کل مقامی چودھریوں کی تنظیم انجمن گجراں نے بھی کام شروع کیا ہے اور آنے والے وقت میں گجر برادری کے سیاسی افراد چودھرانی سرکار کے حق میں نعرے بلند کر سکتے ہیں۔اسی طرح راجوں اور شہزادوں کی نمائندہ تنظیم Royal Foundationکا طبقاتی ایجنڈا بھی چودھرانی سرکار کے لئے مخصوص ہے۔رہا سوال مقامی عوام کا توان سے کوئی رائے پوچھنا چودھرانی سرکار کے قانون میں نہیں۔البتہ غریب عوام کے نام نہاد نمائندے بھی چوھرانی سرکار کے ساتھ چلنے پر مجبورہیں۔ ضلع غذر سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور ضلعی ہیڈکواٹر کے بااثر سیاسی کردار سلطان مدد صاحب بھی چودھرانی سرکار کے پر خاص اُمیدوار ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کے بعدتقریباََ ڈیڑھ سال کے طویل مدت کو گورنر شپ کے لیے قربان کردیا ۔اگر چہ وہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ چودھرانی سرکار میں اسی بات کا برملااظہار کرچکے تھے۔ کہ پیر کرم علی شاہ کے بعد ان کو بھی مسلم لیگ کی وفاقی سرکار گورنر گلگت بلتستان بناسکتی ہے۔ اگرچہ ان کو اندیشہ تھاکہ کہیں فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہوا تو وہ عوام میں کس طرح لوٹ آئیں گے۔ مگر عین وقت پر چودھرانی سرکار نے ان کو خوشدلی کے ساتھ گلگت روانگی کے دوران اپنے قافلے میں خود ان کو شامل کیا ۔ شاندار استقبالیے میں ان کے ساتھ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کے مسلم لیگ کے رہنما اور کارندے چودھرانی سرکار کے حق میں نعرے بازی اور خوش آمدی میں بازی لے گئے۔ چودھرانی سرکار کے سابق جمہوری حامی پیپلی وزیر اعلیٰ اور اس کی ٹیم کے چند نوسرباز احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جمع ہوئے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی انکھوں سے دیکھ لیا کہ مہدی شاہ اور اس کے ساتھی کتنے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ جسکی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی اپوزیشن کا اندازہ ہو ا۔ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ کی چودھرانی سرکار ابھی نامکمل ہے۔چند مہینوں کے بعد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے بعد چوھرانی سرکار مکمل طورپر طاقت کے محور میں داخل ہوجائے گی۔ اگرچہ یہاں مسلم لیگ کے وفادار اور ہمدرد وں کی کمی نہیں ہے۔مگر کوئی بھی چھترہ پتھری ہو سکتی ہے۔ عوام کی منتخب حکومت تو اپنی جگہ مگر گلگت بلتستان میں اختیارات چودھرانی سرکار کے ا عآی حکام کے پاس ہو تے ہیں۔ان کے ساتھ عوام کے منتخب نمائندوں کی خانہ پوری سے عتماد کی مصنوعی فضا قائم ہوتی ہے۔سرکاری محکموں میں رشوت خوری اور بدعنوانی کے نئے طریقے ایجاد ہوسکتے ہیں تاہم یہ سب چودھرانی سرکارکی سرپرستی میں ہوتاہے۔ مقامی مفادپرستوں کے اعتماد کے حصول کے بعد چودھرانی سرکار کے زیر سایہ کارندے اتنے متحریک ہوجاتے ہیں کہ اپنے محکموں میں سپید و سیا کے مالک بن جاتے ہیں۔ سرکار کی بدولت نویں درجے کا ملازم لاکھ پتی اور گیارویں درجے کا ملازم کروڈپتی بن سکتا ہے ۔ محکمہ تعمیر ات عامہ اور محکمہ پانی و بجلی کے ملازم تو چودھرانی سرکار کے خاص کارندے ہوتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ عوام تو کبھی مطمئن ہوتی نہیں اگر بجلی نہ ملے تو موم بتی جلا ئے اور صاف پانی بھی دکانوں میں منرل واٹر کے بوتل کی شکل میں ہر وقت دستیاب ہے۔ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت میں کچھ بھی ہو چودھرانی سرکار کو پرواہ ہی نہیں سرکاری اداروں کے اساتذہ خود اپنے بچوں کو نجی اداروں میں داخل کراتے ہیں اور خود سرکار کی بھاری تنخواہوں کے مزے لیتے ہیں غذر کے مرکز گاہکوچ میں ایک بنیادی صحت کے مرکز کے گیٹ پر ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال کا سائن بورڈ نصب کیا گیا ہے۔ یہ چو دھرانی سرکار کی مہر بانی ہے۔ 

ڈی سی کے خلاف گلگت میں ہڑتال کرنا عوام غذر کے ساتھ مزاق ہے

غذر (این این این)تحریک انصاف ضلع غذر کے صدر محمد ایوب اپنے ایک ا خباری بیان میں کہا ہیکہ ڈی سی غذر کے چھوٹے ملازمین کا ڈی سی کے خلاف گلگت میں ہڑتال کرنا عوام غذر کے ساتھ مزاق ہے جو بھی علاقے کے ساتھ مخلص آفیسر یہاں آتا ہے پی ڈبلیو ڈی کے کچھ ٹھیکدار سرکاری ملازمین کو لے کر ان کے پیچھا پڑ جاتے ہیں جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈی سی غذر کے ملازمین پہلے تمام ڈی سیز کو تحائف پیش کرکے اپنے مرضی کے مطابق ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے رائے منظور حسین ان تمام تحائف کو رد کرنے پر ان ملازمین کو پریشانی ہوئی ہے ۔انہوں نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کرنے والے ملازمین جو ضلعی سربراہ پر اعدم عتماد کا اظہار کرتے ہیں کو مختلف اضلاع میں تبدیل کرکے یہاں عوام دوست ملازمین کو تعینا ت کیا جائے تاکہ وہ حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کریں۔