Saturday, 20 September 2014

کچھ اچھی کچھ میٹھی باتیں۔۔۔۔!!!!


*حکومت بچانے کے لیے بلایا گیا اجلاس دوہفتے جاری رہا 12کروڈ کے اخراجات
*قراقرم یونیورسٹی کا کارنامہ ، طلباء سے اضافی فیس لینے کا انکشاف
*خواجہ اصف نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹررامیش کمار کو ڈانٹ پلادی
*گلگت میں تعلیم صحت کی سہولیات نہ پینے کا پانی ،شہر مسائلستان بن رہا ہے؛ اغاراحت
*طاہر القادری کا کرپٹ افراد کو سزائے موت کا قانون بنانے کی تجویز
*لاہور، انساد دہشت گردی کی عدلت نے گلوبٹ پر فرد جرم عائد کردی
*گلگت بلتستان کو سیاسی حقوق سے محروم رکھنا ملکی مفاد نہیں؛ دیدار علی

غذر؛پی پی ایچ ائی کی کارکردگی قابل تعریف ہے؛ سماجی کارکن ریاض احمد

گاہکوچ(این این این )پی پی ایچ ائی گلگت بلتستان خصوصاََ غذر میں عوام کوصحت کے حوالے سے ہر ممکن سہولیات فراہم کررہا ہے۔ مخصوص افراد اپنے زاتی مفادات کے خاطر ادارے کو بد نام کرنے کی کوشش میں لگے ہیں اور ادارے کے DSMکے خلاف پروپکنڈے کررہے ہیں ان خیالات کا اظہار پھنڈر کے سماجی شخصیت ریاض احمد نے میڈیاکے نمائندو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کچھ لو گ اپنے مفاد کے خاطر ادار ے کے سرپراہ کے خلاف پروپکنڈ ے کررہے ہیں ان کا مقصد صرف اپنے مفاد حاصل کرنا ہے نہ کہ عوام کو سہولیات دینا ہے۔ گزشتہ سال تحصیل پھنڈر میں ایک مہلک بیماری سے کئی بچے جان کی بازی ہار گئے اس دوران پی پی ایچ ائی خصوصاََ DSMکی خصوصی تواجہ سے اس بیماری کا ختمہ ہو گیا۔اس کے علاوہ بہت زیادہ بیماریوں کا علاج علاقے میں ہی کرنے کا سہولیات بھی عوام کوفراہم کیا ۔ غریب لوگ جو دوسرے شہروں میں جاکراپنے عزیزوں کا علاج نہیں کرسکتے ہیں وہ اپنے علاقے میں ہی علاج کرواتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی ایچ ائی کے DSMکے خلاف پروپکنڈا کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ وہ علاقے میں صحت کی سہولیات کو مذید عام کرنے میں اپناکردار ادا کرے۔

Friday, 19 September 2014

غذر؛ میں پرائیوٹ سکولوں کی فیسیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

غذر(این این این)غذر میں پرائیوٹ سکولوں کی فیسیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ۔سکول مالکان والدین کو بھاری فیسوں کے ذریعے لوٹنے لگے ۔مہنگائی اور بے روزگاری سے ستائے والدین نے بھاری فیسوں سے تنگ آکر اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں سے نکالنے کی تیاریاں کر لی ۔والدین نے حکومت سے پرائیوٹ سکولوں میں فیسوں کے حوالے سے پالیسی وضح کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔واضح رہے کہ غذر بھر میں معیاری تعلیم کے نام پر پرائیوٹ سکول مالکان نے غریب عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ۔بھاری فیسوں کی وجہ سے غریب والدین کا بچوں کو معیاری تعلیم دلوانے کا خواب چکنا چور ہو گیا ۔کئی والدین نے فیسوں سے تنگ آکر اپنے بچوں کو سکولوں سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ۔انگلش میڈیم اور جدید تعلیم کے نام پر غذر بھر میں اس وقت درجنوں افراد نے اپنا کاروبار کھول رکھا ہے ۔جہاں چار کمروں کا مکان خالی ملتا ہے وہاں نت نئے ناموں سے ایک ماڈل سکول کا قیام عمل میں لایا جاتاہے جہاں تو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق کوئی لیبارٹری موجود ہوتی ہے اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ٹیچر موجود ہوتے ہیں صرف ایف اور بی اے پاس افراد سے معیاری تعلیم دینے کے دعوے دار افراد غریب عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں اگر غلطی سے کسی سکول میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیچر دستیاب ہوتا ہے تو وہ صرف چند مہنوں کا مہمان ہوتو ہے کیونکہ اس کو اس کے توقعات کے مطابق تنخواہ نہیں مل رہی ہوتی یہی وجہ ہے کہ پرائیوٹ سکول مالکان کے لئے مال کمانے کا ایک بہترین ذریعہ بنا ہوا ہے ۔لہذاحکومت کو چاہئے کہ وہ پرائیوٹ سکولوں کے معیار اور فیسوں کے حوالے سے کوئی مظبوط پالیسی وضح کرے اور کوئی سکول مالک اس پالیسی کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاکر ایسے سکولوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر دے تاکہ یہ مقدس پیشہ بدنام ہونے سے بچ سکے۔

غذر کی تحصیل یاسین کے چار امتحانی مراکز میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو تعینات

غذر(این این این)قراقرم بورڈ کا ایک ہی خاندان کو نوازنے کا انوکھا انداز۔غذر کی تحصیل یاسین کے چار امتحانی مراکز میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو تعینات کر لیا گیا ۔سفارشی بنیادوں پر امتحانی ذمہ داریاں سونپے جانے پر امیدواروں اور اساتذہ میں تشویش کی لہر ڈوڑنا شروع ہوگئی۔واضح رہے کہ قراقرم بورڈ نے میٹرک سپلیمنٹری امتحانات کے لئے تحصیل یاسین کے چار امتحانی مراکز میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو امتحانی ذمہ داریاں سونپی گئی۔ایک ہی خاندان کے سفارشی افرادکو امتحانی ذمہ داریاں سونپنے پرامتحانات پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں یاسین کے طلباء و طالبات سیمت سماجی و عوامی حلقوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امتحانات جیسے حساس معملات میں بھی سفارش کو ملحوظ نظر رکھا گیا تو یہ طلباء اور علاقے کے عوام کے ساتھ ایک مذاق ہے اہل علاقہ نے قراقرم بورڈ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور میرٹ کی بنیاد پر ایماندار اور فرض شناس افراد کو تعینات کرے۔ 

Thursday, 18 September 2014

چیف سکریٹری نواز شریف کے گھر کا بندہ ہے پھر بھی ان سے جھگڑا نہیں؛ مہدی شاہ

گلگت (این این این) وزیز اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شا ہ نے کہا ہے کہ میرے اور گورنر کے درمیان کوئی اختلافات نہیں۔ میں نے گورنر کے خلاف کوئی بات کہی ہے اور نہ کہوں گا۔ اگر میرا اختلافات چیف سکریٹری کے ساتھ بھی نہیں ہے جوکہ نواز شریف کے گھر کا بندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق چیف سکریٹری یونس ڈاگہ نے ملازمین کو مستقیل کرنے والے بل پر دستخط کرنے سے گورنر کو ڈرایا تھا ۔ جس کی وجہ سے ہمارے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئے تھے۔سمری کے حوالے مسلم لیگ ن کے چیف ارگنائز کو کوئی علم نہیں اور نہ ہی ہم حفیظ کے کہنے پر کسی عمل کے پابند ہے۔

Wednesday, 17 September 2014

جعلی اسسٹنٹ کمشنر آفیسرعورت گرفتار مقدمہ درج

قصور(این این این) سٹی پولیس قصورنے چار ماہ سے تعینات جعلی اسسٹنٹ کمشرانڈر ٹریننگ آفیسر شیخوپورہ کی رہائشی ماہ نور نامی عورت گرفتار کرلی اور مقدمہ درج کرکے اسے حوالات میں بند کر دیا۔ سٹی پولیس کیمطابق ماہ نور چار ماہ سے بطوراسسٹنٹ کمشنرانڈر ٹریننگ قصور تعینات تھی جو کہ چار ماہ سے ہیS&GAD کے ادارے سے کنفرم ہونے کے بعد قصور میں اپنی تعیناتی کے بعد کام کر رہی تھی ۔مذکورہ ادارہ کو اطلاع ملنے پر اسسٹنٹ کمشنر انڈر ٹریننگ ماہ نور کے کاغذات بوگس ہیں جس پرS&GAD کی جانب سے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد کاغذات بوگس ثابت ہونے پر ادارہ نے ڈی سی او قصور کو مذکورہ جعلی اسسٹنٹ کمشنر خاتون کیخلاف قانونی طور پر کارروائی کرنے کیلئے احکامات جاری کردئیے جس پر کارروائی کرتے ہوئے سٹی سرکل پولیس نے جعلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر ماہ نورکو گرفتار کرلیا اور مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ۔جبکہ مذکورہ جعلی اسسٹنٹ کمشنرماہ نور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے تمام کاغذات درست ہیں اور مجھ پر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں 

غذر؛ محکمہء برقیات کا بلوں کے نا دہندگان کے خلاف کریک ڈاؤن

غذر(این این این)محکمہء برقیات کا بلوں کے نا دہندگان کے خلاف کریک ڈاؤن۔سول ہسپتال طاؤس کی بجلی کی لائن کاٹ دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق غذر میں محکمہء برقیات نے بجلی کے بلوں کے نادہندگان کے خلاف کریک ڈاؤں شروع کر دی ۔اس سلسلے میں کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے محکمہء برقیات کے اہلکاروں نے بلات کی عدم ادائیگی پر سول ہسپتال طاؤس کی بجلی کی لائن کاٹ دی ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طاؤس سول ہسپتال کا بل گزشتہ کچھ مہینوں سے ادا نہیں کیا گیا تھا اس حوالے سے محکمہء صحت غذر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ فنڈ کی کمی کی وجہ سے انہوں نے بجلی کا بل ادا نہیں کیا ۔نادہندگان کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ایسے ادارے اوربجلی کے پرائیوٹ صارفین نے اپنے بقایات جات جمع کروانا شروع کر دیا۔ 

Tuesday, 16 September 2014

غذر؛سکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہے، شندور سپورٹس کلب

غذر (این این این)شندور سپورٹس کلب گلاغمولی کے صدر کلیم کاظمی،نائب صدر الطاف حسن اور جنرل سکریٹری سیف الرحمان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہاہے کہ ہائی سکول گلاغمولی کا گرونڈ خستہ حالی کا شکار ہے تو دوسری طرف سکول میں کھیلوں کے سامان بھی موجود نہیں ۔کھیلوں کو تعلیم کاحصہ سمجھا جاتاہے لیکن ہائی سکول گلاغمولی میں اس سلسلے کوئی عملی کام نہیں کی جاتی ہے۔ کئی عرصہ گزرنے کے باوجود بھی سکول میں کھیلوں کی سرگرمیاں دیکھنے کو نہیں ملتے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کو صرف کتابی کیڑا بننا پڑا ہے۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی سکول گلاغمولی میں گرونڈ کی مرامت کے ساتھ سکول انتظامیہ کو کھیلوں کی سامان فراہم کیے جائیں۔

میٹرک کے سالانہ امتحان 2014میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات میں اقراء ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔

چترال(نمائنداین این این)نئی نسل کی حوصلہ افزائی دراصل قوم اور مستقبل کی خدمت ہے کیونکہ قوم کا مستقبل نئی نسل سے وابستہ ہے یہ بات ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق نے یہاں اقراء ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب کی صدارت ای ڈی او ابتدائی وثانوی تعلیم معین الدین خٹک نے کی۔تقریب میں قاری فیض اللہ چترالی کی طرف سے میٹرک کے سالانہ امتحان 2014میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات میں اقراء ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔اس ایوارڈ کے تحت اول پوزیشن لینے والے کو40ہزار روپے نقد،دوم پوزیشن لینے والے کو30ہزار روپے نقد اور تیسری پوزیشن لینے والے کو 20 ہزار روپے نقد انعام دیا جاتا ہے۔جبکہ پرائیویٹ سکولوں کی درجہ بندی سرکاری سکولوں سے الگ ہوتی ہے۔اس موقع پر رخشندہ فاطمہ کو سرکاری سکولوں میں پہلا انعام ملا۔شاہد الرحمن کو دوسرا انعام اور شاہانہ سلطان کو تیسرا انعام ملا۔پرائیویٹ سکولوں میں جویریہ شاہ کو پہلا انعام،سیما جبین کو دوسرا انعام دیا گیا۔جبکہ تیسرا انعام زاہدہ ذولفقار اور محمد نسیم الحسن میں برابر تقسیم کیا گیا۔حوصلہ افزائی کا خصوصی انعام 10ہزار روپے اقلیتی طالب علم اقبال الدین کالاش کو دیا گیا۔صحافتی خدمات پر چترال ٹائمز ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر سیف الرحمن عزیز کو10ہزار روپے کا اقراء ایوارڈ دیا گیا۔تقریب میں ڈان انسٹیٹیوٹ مستوج،دی لینگ لینڈ سکول چترال،فرنٹیر کور پبلک سکول دروش ،حرا سکول دروش ،سنٹینل ماڈل گرلز ہائی سکول چترال،گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کوشٹ اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مولدہ کے ہیڈ ماسٹر ،پرنسپل صاحبان کو اقراء نشان پیش کیا گیا۔اس سے قبل خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاری فیض اللہ چترالی کی طرف سے سکولوں کے طلبہ اور طلباء کو گذشتہ 13سالوں سے اقراء ایوارڈ دیاجاتا ہے۔قاری صاحب نے اس پر32لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔نیز چترال میں قدرتی آفات سیلاب وغیرہ کی صورت حال میں متاثرین کے ساتھ ہمدردی پر ایک کروڑ 8لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔مقررین میں مولانا حسین احمد،پرنسپل کامرس کالج صاحب الدین،قاری جمال عبدالناصر اور مولانا شیر عزیز نے بھی خطاب کیا۔