Saturday, 19 July 2014

وادی کلاش کے عوام جدید سہولیات سے محرومی کا شکار

چترال(گل حماد فاروقی) دنیا کی محصوص ثقافت ، رسم و رواج، مذہبی دستور اور دیگر نہایت نرالی صفات رکھنے والے کیلاش لوگ رمبور، بریر اور بمبوریت کے تین
وادیوں میں رہتے ہیں جو وادی کیلاش کے نام سے مشہور ہیں۔

وادی کیلاش کا موسم نہایت خوشگور ہے جہاں موسم کی ٹھنڈک کی وجہ سے ابھی گندم کی فصل تیار ہوکر اسے تھریشر کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے۔ یہاں کیلاش اور مسلمان دونوں نہایت ہم آہنگی سے رہتے ہیں ۔ گندم تھریشنگ کرتے وقت دیکھا گیا کہ کیلاش اور مسلمان لوگ اکھٹے کام کام کرتے ہیں۔ 

تاہم یہاں کا مواصلاتی نظام نہایت ناگفتہ بہہ ہے۔ ایک کیلاش نوجوان کے مطابق سڑکوں کی حراب حالت کی وجہ سے نہ کوئی ٹورسٹ آتا ہے اور نہ کوئی کاروباری شحص۔ 
ایک چھوٹا بچہ جو پیدل جارہا تھا نے کہ اکہ وہ روزانہ کئی کلومیٹر پیدل سکول جاتا ہے مگر سڑکوں کی حراب حالت کی وجہ سے اسے کافی تکلیف ہوتا ہ

ایک مقامی شاعر اور ادیب محفی کا کہنا ہے کہ ماضی میں وادی کیلاش میں اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں غیر ملکی سیاح ضرور آتے تھے مگر آج کل سیلابوں کی وجہ سے سڑک نہایت حراب ہوچکا ہے اور یہاں کوئی مواصلاتی نظام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تعداد میں دن بدن کمی ہوتی ہوئی ابھی غیر ملکی سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہیں۔