Saturday, 30 August 2014

The Broghul festival attracted a large number of local and non local tourists

By: Gul Hamaad Farooqi
CHITRAL:  

Broghul Festival will be mailing stone for development of this backward area where people living still of stone period. The festival attracted a large number of local and non local tourists. Tourism Corporation of Khyber Pahton Khwan in collaboration of Chitral scouts jointly celebrated the colorful event.  Major General Akhtar Salim   Rao said that this event will be the first step for development of the area. Major items of the festival were yak polo, horse polo (free style), donkey polo,  Buz Kashi  ( completing of round circle  carrying a  goat carcass by a man who riding a horse depending the goat who catch it from the opponent  rider), horse race, donkey race, yak race, cattle show and exhibition of local handicraft and traditional food.
General Officer Commanding (GOC)  Major General Javed Mehmood Bukhari  of Malakannd Division was chief guest on the occasion. While GOC Major General Akhtar Salim Rao of 104 Engineering Battalion also attended the colorful event in the scenic valley of Broghul.
Talking to local journalists General Akhtar Salim Rao said that he was very excited when he visited  Broghul valley. He said that he really impressed by local games and traditional events like Yak polo which is playing only in this valley. Responding to a question he said that Army Engineering battalion completed this road to post of Chitral Scouts and it will be extended to the last village of the valley.

ڈی سی غذر کے واضح احکامات کے باوجود گاہکوچ ریسٹ ہاؤس سے سرکاری ملازمین کا قبضہ ختم نہیں ہو سک

غذر(فیروز خان) ڈی سی غذر کے واضح احکامات کے باوجود گاہکوچ ریسٹ ہاؤس سے سرکاری ملازمین کا قبضہ ختم نہیں ہو سکا۔بیشتر سرکاری ملازمین نے ریسٹ ہاؤس کو ذاتی رہائش کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔جبکہ پی ڈبلیو ڈی کے بعض اہلکاروں نے ریسٹ ہاؤس کودفتر بنانا بھی شروع کر دیا۔دیگر اضلاع سے آنے والے مہمان رہائش کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے۔واضح رہے کہ گاہکوچ ریسٹ ہاؤس کو پی ڈبلیوڈی کے بعض اہلکاروں سیمت چند سرکاری ملازمین نے ذاتی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا اس حوالے سے ڈی سی غذر نے چند روز قبل نوٹس بھی لیا تھا اور ریسٹ ہاؤس کو خالی کروانے کے احکامات بھی جاری کئے تھے لیکن یہ با اثر سرکاری ملازمین ڈی سی کے احکامات کو یکثر نظر انداز کر کے ریسٹ ہاؤس پر بدستور قابض ہیں ان سرکاری افیسران جن میں ذیادہ تر پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین ہیں نے ریسٹ ہاؤس کو دفتر کے طور پر بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ان افیسران کی اس طرح ریسٹ ہاؤس پر ناجائز قبضے کی وجہ سے دیگر اضلاع سے آنے والے مہمان دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں بتایا جا رہا ہے کہ ریسٹ ہاؤس میں عام افراد کی رہائش پر پابندی لگائی گئی ہے اس حوالے سے ڈی سی غذر کو ایک بار پھر نوٹس لینے کی ضرورت ہے اور ایسے تمام افیسران جو ہاؤس رینٹ ملنے کے باوجود سرکاری ریسٹ ہاؤس پر قابض ہیں ان کے کلاف کاروائی کی جائے تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں کی رہایشی مشکلات کم ہو سکیں۔     

پراپر اشکومن مسائلستان بن گیا، ہر طرف جنگل کا قانون نافظ ہے؛ ظفر محمد شادمخیل

غذر بیورو رپورٹ)پراپر اشکومن مسائلستان بن گیاہے ہر طرف جنگل کا قانون ہے۔ڈی سی غذر پراپر اشکومن میں کا دورہ کریں اور کھلی کچہری لگا کر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ ان خیالات کا اظہار پراپراشکومن ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیر مین و نو جوان سیاسی وسماجی رہنماء ظفر محمد شادم خیل نے ایک اخباری بیان میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہزار گھرانوں پر مشتمل پراپر اشکو تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے علاقے میں تعلیم کا نظام درہم برہم ہے سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہیں۔عوام بری طرح مسائل کا شکار ہیں انہوں نے ڈپٹی کمشنر غذر سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی فرصت میں اشکومن کا دورہ کریں اور یہاں کے عوام کو مشکلات سے نکالنے میں کردار ادا کریں۔

Saturday, 23 August 2014

سرکاری ملازمین کے اپنے ذاتی رہائش گاہ ہونے کے باوجود سرکاری مکانات پر قبضے کا انکشاف

گاہکوچ(این این این نیوز)ضلعی ہیڈکواٹر گاہکوچ میں سرکاری ملازمین کے اپنے ذاتی رہائش گاہ ہونے کے باوجود سرکاری مکانات پر قبضے کا انکشاف۔کئی ملازمین سرکاری مکانات پر قبضہ کرکے اپنے مکان کرایے پر دئیے ہوئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ان ملازمین کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے غذر کے دور دراز کے سرکاری ملازمین کورہائش کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ رہائش نہ ہونے کی وجہ سے دور کے سرکاری ملازمین اپنے ڈیوٹیاں بھی احسن طریقے سے نہیں دے سکتے ہیں۔تفصلات کے مطابق غذر میں سرکاری رہائش گاہ پر مخصوص لوگوں نے قبضہ جما بیٹھے ہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر میں ان کے اپنے مکانات ہونے کے باوجود بھی وہ سرکاری مکانات پر قبض ہیں۔تحصیل یاسین، پھنڈراور اشکومن کے سرکاری ملازمین کورہائش گاہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ گھروں سے اکر ڈیوٹیاں دینے پر مجبور ہیں۔دور سے آنے پر ان کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اول تو ٹریفک کا مسلہ درپیش ہورہا ہے تو دوسری طرف گاڈیاں وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ اکثر غیرحاضر اور وقت کے بعد پہنچتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کاروائی عمل لاتے  ہوئے دور سے آنے والے ملازمین کو مکانات دلوائے۔

Joine Us On Facebook

غذر؛ مرکز صحت بنیادی سہولیات سے محروم، عملہ غائب

غذر (این این این)غذر میں محکمہ ہیلتھ کے زیر اہتمام چلنے والی تمام مراکز صحت بنیادی سہولیات سے محروم۔ڈسپنسریوں میں عملہ موجود لیکن ادویات نام کی کوئی چیز موجود نہیں ڈسپنسریاں میں صفائی کا فقدان ایک بیماری میں مبتلا افراد علاج کی غرض سے ڈسپنسریوں میں جانے کے بعد کئی بیماریوں کا شکار ہونے لگے۔عوام غذر نے ڈسپنسریوں کو محکمہ صحت سے اٹھا کر پی پی ایچ ائی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق غذر میں محکمہ صحت کے زیر اہتمام چلنے والی بیشتر ڈسپنسریاں بنیادی سہولیات سے مکمل طور پر خالی ہیں مراکز صحت میں ادویات نام کی کوئی چیز موجود نہیں مریض سر درد کی گولی کے لئے بھی در در کی ٹھوکریں کھانے لگے جبکہ ڈسپنسریوں میں غلاظت اور گندگی کی وجہ سے ایک بیماری کے علاج کے لئے جانے والے مریض کئی بیماریوں کا شکار ہو گئے۔اس کے برعکس غذر میں پی پی ایچ ائی کے زیر انتظام چلنے والی ڈسپنسریوں سے عوام کسی حد تک مطمئن ہیں غذر کے عوام نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غذر میں محکمہ صحت کے زیر انتظام چلنے والی تمام مراکز صحت کو پی پی ایچ ائی کے حوالے کر دئے جائیں تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات میسر آسکیں

غذر؛ ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں کے لیے ووکیشنل سنٹر کا افتتاح کر دیا گیا

غذر (این این این) گلگت بلتستان میں پہلی بار ڈسٹرکٹ جیل گاہکوچ میں قیدیوں کے لئے ووکیشنل سنٹر کا آغاز کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر غذر رائے منظور حسین نے جیل کے اندر ووکیشنل سنٹر کا افتتاح کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر غذر نے کہا کہ جیل عملے کی کوششوں سے اس کا م کا آٖغاز کیا گیا ہے اس نیک کام کی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔انہوں نے کہا کہ جو قیدی یہاں سے کام سیکھ جائیں گے ان کے لئے ہم جیل کے اندر روز گار کا بندوبست کر ینگے۔اور ان کی کل کمائی کا نصف حصہ قیدیوں کو دی جائے گی تاکہ یہ افراد اپنے خاندان والوں کی جیل کے اندر رہتے ہوئے مالی مدد کر سکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل ارشاد احمد احمد نے ڈی سی کو فریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹریننگ کا دورانیہ تین مہینوں پر محیط ہو گا اور تین مہینے کے اندر قیدی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاینگے۔انہوں نے کہا کہ ووکیشنل ٹریننگ کے علاوہ جیل میں قیدیوں کے لئے تعلیمی سیشن کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں انہوں نے ڈپٹی کمشنر غذر کا ذاتی دلچسپی لینے پر قیدیوں اور جیل عملہ کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔           

غذر؛ پھنڈر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ، عوام تنگ آگئے

غذر(این این این)غذر کے تحصیل پھنڈر میں لوڈشیڈنگ سے عوام تنگ اگئے، عوام کا شکوہ ہے کہ بجلی دن کو آتی ہے اور نہ رات کو جس کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات درپیش ہورہے ہیں بجلی کی بندیش سے ایک طرح گھریلو کام کاج متاثرہورہے ہیں تو دوسری طرف کاروباری لوگوں کو بھی اس باعث کافی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔عمائدین علاقہ نے میڈیا کے نمائندہ کو بتایا کہ علاقے میں بجلی کی کوئی کمی نہیں ذمہ دار محکمے کی طرف سے بہتر انتظامات نہ کیے جانے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی نوبت پیدا ہوجاتی ہے۔ بجلی گھر کے سربند کے لیے سالانہ لاکھوں بجٹ مخصص ہوتا ہے لیکن اسے مرامت اچھی طریقے سے نہیں کی جاتی ہے جو گرمیوں میں دریائے غذر میں بہہ جاتا ہے۔ عوام نے محکمہ برقیات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ تحصیل میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے محکمہ جلد اقدامات کرے بصورت دیگر عوام محکمے کے خلاف سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔

Thursday, 21 August 2014

ڈبلن: ربڑ پہن کر بلڈ پریشر کم کرنے کا منفرد تحقیق

ڈبلن: نوجوانوں کے ہاتھوں میں ربڑ بینڈ پہننا معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ ولدین اس عمل پر اکثر بچوں کوٹوکنے کے ساتھ پٹائی بھی کرتے ہیں۔لیکن سائنس نے ثابت کیا کہ ہاتھوں پر ربڑ پہننا انسانی صحت کے لیے مفید ہے۔ آئرلینڈ کے ٹرینٹی کالج ڈبلن کی جانب سے اس کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق کلائی پر ربڑ بینڈ پہننے سے بلڈ پریشر اور خونی نظام تنفس کنٹرول میں رہتا ہے جبکہ خون میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کی کمی بھی ربڑ بینڈ پہن کرکنٹرول کیا جاسکتے ہیں۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جونا تھی کولیمن کے مطابق ربڑ بینڈ کے استعمال سے انسان اپنے بلڈ پریشر کو بغیر کسی بھاری اخراجات کے کنٹرول کر سکتاہے۔

Tuesday, 19 August 2014

غذر؛ سنگل نالے میں 2 پولیس اہلکاروں کے قتل کے خلاف عوام کا احتجاجی دھرنا

غذر(این این این) سنگل نالے میں دو پولیس اہلکا کو قتل کیے جانے کے خلاف غذرکے عوام  گلگت چترال روڈ پر اٹھ گھنٹہ دھرنا دیا مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ محکمہ پولیس میں غفلت برتنے والے پولیس افسران کے خلاف کاروائی کی جائے اور پولیس اہلکاروں کے قتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے۔ دھرنے کے باعث گلگت چترال شاہرہ اٹھ گھنٹے تک ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند ررہی جس کے باعث غذرکے دور دراز سے آنے والے مسافر سنگل کے مقام پر پھنس گئے۔ مظاہرین کاکہناتھاکہ مطالبات کی منظور نہیں کی گئی تو احتجاجی دھرنا جاری رکھاجائے گا

Saturday, 9 August 2014

خواتین کیسے مردوں کو پسند کرتے ہیں تحقیق سے ثابت ہو گیا،

ایک بین الاقوامی کمپینی کی جانب سے خواتین سے ایک سروے میں پوچھاگیاکہ انہیں کس طرح کے مرد سب سے زیادہ پسند  ہیں 87فیصد کا جواب تھا کہ جن کی حس مزاح اچھی ہو یعینی وہ اچھے مزاح کو سمجھ سکتے ہوں اور اچھے مزاح سے انہیں خوش رکھ سکتے ہوں۔ سروے میں 2000خواتین نے حصہ لیا اور حس مزاح کے بعد دوسری پسندیدہ ترین خوبی مالی معاملات میں مستحکم رویے کو قرار دیا گیا جس کے حق میں 75 فیصد ووٹ دیا۔ تیسرے نمبر پر ذاہنت رہی جسے 70 فیصدنے اہم قرار دیا جب کہ خوبصورتی کو چوتھی پوزیشن ملی اور 65 فیصد خواتین نے اسے ضروری قرار دیا۔

Thursday, 7 August 2014

غذر؛ نایاب نسل مچھلوں کی غیر قانونی شکار جاری ، ادارہ رکھنے میں ناکام

غذر(این این این ) محکمہ فیشیریز غذر نایاب نسل مچھلوں کی نسل کشی روکنے میں ناکام، پھنڈر اور مضافات سے مچھلیوں کی شہرسمگلنگ کا عمل جاری، دوسری طرف سیاح بھی مچھلوں کی غیر قانونی شکارکررہے ہیںادارے کے پاس ناکافی وچرز ہونے کی وجہ سے مچھلوں کی غیر قانونی شکارلوگوں کی لیے اسانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کا شکار سرکاری افسرن مکمل طور پر غیر قانونی طریقے سے کرتے ہیںانہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مچھلوں کی شکاری کے عمل کو مساوی رکھا جائے اور غیر قانونی شکار کو روکا جائے۔

غذر؛ چشن آزادی پاکستان کے دن قریب اتے ہی شہریوں نے شہرکو سجایا ۔ ہر طرف پاکستان کے جھنڈے اور بینرز

غذر(این این این) جشن آزادی پاکستان کی کے دن قریب اتے ہیںضلعی ہیڈکواٹر گاہکوچ کے شہریوں نے شہر کو سجانا شرو ع کردئے ہیں۔ اس حوالے سے تجارتی حضرات بھی چپ نہ رہے انہوں نے اپنے دکانوں میں پاکستان کے جھنڈے نصب کیے اور دکانوں کو سجایا ہے۔جشن ازادی کے حوالے سے مختلف اداروں کی طرف سے مختلف پروگرام بھی انعقاد کیے جارہے ہیں

پھنڈر؛ چھشی یوتھ فورم کے انتظام ہائی سکول پھنڈر میں میوزیکل شو کا انعقاد ۔۔

غذر(این این این) چھشی یوتھ فورم کے انتظام ہائی سکول پھنڈر میں ایک شب جشن آزادی پاکستناکی مناسب سے کھواز میوزیکل شو کا انعقادکیا گیا جہاں پر چترال سے آئے ہوئے کھوار زبان کے مشہور شاعرو گلوکار منصورعلی شباب اور ان کی ٹیم نے شرکت کی ۔ شو میں تحصیل پھنڈر کے علاوہ غذر کے تمام تحصیلوں سے بھی لوگوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں مقامی شعرا نے بھی گنگنائے رات تین بجے یہ رنگ رنگ تقریب اپنے اختتام کو پہنچا۔

Monday, 4 August 2014

چترال؛ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرز ہسپتال بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

چترال(گل حماد فاروقی سے) ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرز ہسپتال جوپورے چترال کا واحد مرکزی ہسپتال ہے اس ہسپتال کے پورے ضلع سے مریض لائے جاتے ہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اس گرمی میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنآ پڑتا ہے۔ نیشنل گریڈاسٹیشن سے لائی گئی بجلی چوبیس گھنٹوں میں صرف چار گھنٹے آتی ہے اور بیس گھنٹے بند رہتی ہے جبکہ بجلی جب اتی بھی ہے تو اسکی وولیٹیج اتنی کمزور ہوتی ہے کہ ہسپتال کی مشنریتو درکنار معمولی پنکھا بھی نہیں چلاسکتاہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی گزشتہ حکومت میں تقریبا75لاکھ روپے کی لاگت سے دو سوکلوواٹ ڈیزل جنریٹر تو خریدا گیا مگر اس کا خرچہ اتنا ہے کہ ہسپتال کا انتظامیہ اسے برداشت نہیں کرسکتاہے۔علاقے کے عوام نے حکومت سے مطالبیہ کیا ہے کہ ہسپتال میں ہر قسم کی سہولیات کو عام کی جائے تا کہ مریضوں کے مشکلات دور ہو سکے۔

Sunday, 3 August 2014

Gilgit-Baltistan to be Target of New Draconian Law

GB to be target of new draconian law 
SKARDU: Whatever the apprehensions and fears, the Protection of Pakistan Act 2014 will be extended to Gilgit-Baltistan on a priority basis because this draconian law has been legislated to suppress the rights of the marginalized people such as the citizens of Gilgit-Baltistan, Balochistan and Sindh.
These views were expressed by Gilgit-Baltistan United Movement (GBUM) chairman Manzoor Hussain Parwana in a press statement.
He said though Gilgit-Baltistan was a disputed territory on the agenda of the UN and does not come under the constitution of Pakistan, all draconian law such as the treason act and the anti-terrorism act of 1997 were implemented in the region to suppress the people and keep them subdued and deprived of all basic rights. He said hundreds of people in Gilgit-Baltistan have been facing trial in the terrorism court under terror and treason charges and man are still languishing in jails. He said Gilgit-Baltistan is a colony of Pakistan and the colonial powers can implement any draconian law in the land without any fear or regard to the human rights issues or constitutional implications.
The GBUM chief was of the view that Pakistan never needed to take permission from parliament before bringing any black law to Gilgit-Baltistan.
He said it was strange that despite having no representation in the Senate and National Assembly of Pakistan, any law passed by the Pakistani parliament was forced on the people of Gilgit-Baltistan. He said that human rights situation in the region was already poor and Pakistan never bothered to improve the situation.

Requests for User Data Rise in Twitter’s Latest Transparency Report

Twitter on Thursday released its bi-annual transparency report, detailing the number of requests for information the company receives from government agencies around the world.Releasing transparency reports, a practice pioneered by Google four years ago, is now commonplace for many large technology companies; Facebook, Yahoo and Microsoft regularly release their own similar versions.
Photo
Twitter received 2,058 requests for user account information from a total of 54 different countries over the last six months, the company said, a 46 percent increase in requests from its previous report. As has been the case for years, the United States requested Twitter user information the most frequently, accounting for more than 60 percent of the overall requests.For comparison, Facebook received about 12,000 requests for user account information over the last six months of 2013, while Google received nearly 30,000 requests over the same period.

Saturday, 2 August 2014

خپلو؛ دو مزہبی گروپوں میں تصادم 40 سے زائد ذخمی

خپلو(این این این) گانچھے کا ضلعی ہیڈکواٹر خپلو میں دو گروپوں میں تصادم سے چالیس سے ذائد افراد ذخمی ہوگئے، مشتعل افراد کی پھتراو سے تین پولیس اہلکار شدید ذخمی ، دوگھروں کو اور کئی گاڈیوں کو نقصان پہنچا۔ پولیس نے 47 افراد کو گرفتار کرکے سکردو بھیجوا دیا۔73 افردکے خلاف مختلف دفعاد کے مقادامات درج کیے گئےروپوش ہونے والے ملزموں کے کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری،پھسادات پھیلانے والے ہر گز رعایت کے قابل نہیں ۔ واقع میں ملوص افراد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جاےگی؛ پولیس حکام